منگل , مئی 18 2021
Home / ملاکنڈ ڈویژن / پورن: ریسکیو1122ایمبولینس سروس مریضوں کو بروقت ریسکیوکرانے میں ناکام

پورن: ریسکیو1122ایمبولینس سروس مریضوں کو بروقت ریسکیوکرانے میں ناکام

پورن(سہیل خان سے)ریسکیو1122ایمبولینس سروس مریضوں کو بروقت ریسکیوکرانے میں ناکام اہلکار وں کا رویہ انتہائی نامناسب مریض رل گئے لواحقین پریشان دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور حکام بالا سے پرسان حال کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ریسکیو1122جو تحصیل پورن کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو ایمبولینس کی سہولت فراہم کررہی ہے برائے نام سہولت مریضوں کیلئے وبال جان بن گئی ایک متاثرہ مریض کے لواحقین میں سے ایک فرد کے کہنے کے مطابق مذکورہ ایمبولینس سے متعلقہ عملہ اور اہلکار اپنے فرائض سرانجام دینے میں بالکل ناکام نظر آئے واقعہ اس وقت پیش ایا جب مذکورہ شخص کی والدہ شدید بیماری کی حالت میں ڈاکٹرز کی ہدایات پروینٹی لیٹر کی سہولت کے پیش نظر پشاور منتقل کرنی تھی تو ڈاکٹرز نے خصوصی اجازت نامہ لیکر ایمبولینس انچارج احسان کو ہدایات کی کہ مریض کو جلد اجلدپشاور پہنچائے جس پر متعلقہ اہلکار نے لیت ولعل سے کام لیکر انکار کردیا اور کہا کہ مریض کو بونیر سوات کے علاوہ دوسرے ضلعے مثلاََ مردان یا پشاور منتقل کرنا انکے دائرہ اختیار میں نہیں اس بحث وتکرار کے دوران مریض جو کہ اکسیجن پہ تھا اور اسکی حالت ابتر تھی تاہم مریض ایمبولینس کے ذریعے براستہ بونیر روانہ ہوا تو بونیر پہنچ کر ایمبولینس اہلکاروں نے ڈگر کے مقام پر آگے جانے سے پھر انکار کردیا اور وہی دلیل پیش کرنے لگیں کہ ان کو پشاور جانے کی اجازت نہیں لواحقین نے کافی تگ ودوکے بعد ڈگر ہسپتال سے دوسرے ایمبولینس کا انتظام کیا لیکن اس میں اکسیجن کی سہولت نہیں تھی لہٰذا انچارج احسان سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے ایمبولینس سے کم ازکم اکسیجن ڈگر ہسپتال کے ایمبولینس کو فراہم کریں تاکہ مریض کہ جان بچائی جاسکے جس پر موصوف نے انکار کردیا لیکن بالاخر لواحقین کی منت اور سماجت کے بعد وہ اکسیجن دینے پر راضی ہوگئے لیکن تقریباََ2گھنٹے مریض کی زندگی سے کھیلتے رہے لہٰذا اس سلسلے میں ریسکیو1122 کے آفسران،ڈی سی شانگلہ،اے سی پورن اور حکام بالا سے درخواست ہے کہ وہ متعلقہ اہلکاروں سے وضاحت طلب کریں نیز یہ بھی واضح کریں کہ ریسکیو1122کی ایمبولنس کا دائرہ اختیار کہاں تک ہے تاکہ دوسرے مریض رلنے سے بچ جائے کیونکہ ایک طرف کی جان خطرے میں ہوتی ہے تو دوسری طرف اہلکاروں کا رویہ انکی تکلیف میں اضافے کا باعث بنتا ہے مذید یہ کہ اسی تاخیری رکاوٹیں ختم کرکے قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بھی بچائی جاسکے۔

About Aimal Rashid

Check Also

ضلع شانگلہ میں لینڈ کمپیوٹرائزیشن کا عمل آخری مرحلہ میں داخل،

الپوری(آفتاب حسین سے)شا نگلہ ٗصوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسف زئی نے کہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے