منگل , مئی 18 2021
Home / صحت / پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر بچوں کے لیے خطرناک قرار

پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر بچوں کے لیے خطرناک قرار

لاہور (آن لائن) پاکستان بھر میں کورونا کی تیسری لہر سے جہاں بڑے متاثر ہو رہے ہیں وہیں کورونا کی اس تیسری لہر کو بچوں کے لیے بھی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ اآپریشنز سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سے10 سال کی عمر کے مزید 2 بچے کورونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔این سی او سی کے مطابق یکم اپریل سے اب تک کورونا کے باعث 7 بچے جبکہ یکم فروری سے اب تک کورونا کے باعث 1 سے 10 سال کی عمر کے 14 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے باعث ملک میں اب تک مجموعی طور پر ایک سے 10 سال تک کی عمر کے 47 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ این سی او سی کے مطابق کورونا کی پہلی لہر کے ا?غاز سے 30 جولائی تک 12 بچے کورونا سے جاں بحق ہوئے جبکہ یکم اگست 2020ء سے رواں سال 31 جنوری تک 21 بچے جاں بحق ہوئے۔کورونا کی پہلی دوسری لہر میں مجموعی طور پر 31 جنوری 2021ء تک 33 بچے جاں بحق ہوئے۔ کورونا کی دوسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کے بعد والدین میں مزید تشویش پھیل گئی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 157 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 16 ہزار 999 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7 لاکھ 90 ہزار 16 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 908 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 2 لاکھ 85 ہزار 542، سندھ میں 2 لاکھ 76 ہزار 670، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 12 ہزار 140، بلوچستان میں 21 ہزار 477، گلگت بلتستان میں 5 ہزار 247، اسلام آباد میں 72 ہزار 613 جبکہ آزاد کشمیر میں 16 ہزار 327 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 7 ہزار 897، سندھ میں 4 ہزار 587، خیبر پختونخوا میں 3 ہزار 66، اسلام آباد میں 657، بلوچستان میں 230، گلگت بلتستان میں 104 اور ا?زاد کشمیر میں 458 مریض کورونا کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

About Aimal Rashid

Check Also

ویکسینیشن کے بعد سامنے آنے والے بیشتر اثرات، اضطراب کی وجہ سے ہیں

واشنگٹن:(ویب ڈیسک) امریکا کی صحت کی نگرانی کرنے والی اہم ایجنسی ‘مرکز برائے امراض کنٹرول …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے